رنج و غم

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - دکھ، مصیبت، تکلیف، آزمائش۔ "میری زندگی اور موت، رنج و غم، سودو زیاں، جو کچھ بھی تھا باجی سلمٰی کے لیے تھا۔"      ( ١٩٨١ء، سفر در سفر، ٦١ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'رنج' کے ساتھ 'و' بطور حرف عطف لگا کر عربی اسم 'غم' لگانے سے مرکب عطفی 'رنج و غم' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٨١ء کو "سفر در سفر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - دکھ، مصیبت، تکلیف، آزمائش۔ "میری زندگی اور موت، رنج و غم، سودو زیاں، جو کچھ بھی تھا باجی سلمٰی کے لیے تھا۔"      ( ١٩٨١ء، سفر در سفر، ٦١ )

جنس: مذکر